تہران: ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مستقبل کے انتظامات پر کوئی معاہدہ طے بھی پا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ فوری طور پر دوبارہ کھول دی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے اس تاثر کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی براہِ راست معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز فوری طور پر بحال کر دی جائے گی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جاری مذاکرات صرف ایران اور عمان کے درمیان سمندری امور سے متعلق ہیں اور ان میں امریکہ کسی بھی حیثیت میں شامل نہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی کا انحصار خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال اور امریکہ کے رویے پر ہوگا، اس لیے کسی بھی پیش رفت کو فوری بحالی سے جوڑنا درست نہیں۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ عالمی منڈیوں کی نظریں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مرکوز ہیں کیونکہ دنیا کی تیل کی بڑی مقدار اسی اہم بحری راستے سے گزرتی ہے۔
تازہ تریندنیامعاشرتی ترقی
Admin5 اگست 20260
ٹرمپ کی 48 گھنٹوں میں ڈیل کی پیشگوئی، ایران کا دوٹوک جواب: ہرمز فوری نہیں کھلے گی
جواب دیں